فہرستِ مضامین بیان نمبر 1
لغت
دلیل#1

بیان نمبر 1

نیوٹن، سیب اور کشش کے خیال پر سوال

تشریح اور خلاصہ مدیر کا تیار کردہ مواد ہیں۔ اصل عبارت کی جانچ کے لیے ماخذ دیکھیں۔

وفادار رواں متن
بیان نمبر 1: سیب کے گرنے اور قوتِ کشش کے درمیان تعلق کا خیال بیدار ہونے کے لیے بس اتنا ہی واقعہ درکار تھا کہ پھل نیچے گرا اور نیوٹن اچھل کر اٹھا، کیونکہ اس بیان کے مطابق اس کے سوا اس کی کوئی اور وجہ نہیں ہو سکتی تھی۔ اس معاملے کی پوری تفصیل باب دوم میں دی گئی ہے۔

کیا ۱۶۶۵ تک، اور اس سے پہلے کے ہزاروں برسوں میں، تمام فلسفی اور مفکر اس خیال سے بالکل محروم تھے؟ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ خود نیوٹن نے بھی اس سیب کے گرنے سے پہلے کبھی کسی چیز کو گرتے ہوئے نہ دیکھا ہو؟ یا اس کے ذہن میں پہلے کوئی دوسرا خیال تھا جو اس واقعے کے وقت سیب کے گرنے سے ٹوٹ گیا؟
آسان تشریح
بیان نمبر ۱ نیوٹن کے مشہور سیب والے واقعے پر سوال اٹھاتا ہے۔ زمین چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے؛ طبیعیات میں اس کھنچاؤ کو کہا جاتا ہے۔ کتاب میں اسی خیال کو کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے۔

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ پوچھتے ہیں: اگر صرف ایک سیب کا گرنا ہی اس خیال کے جاگنے کی وجہ تھا، تو پھر اس سے پہلے ہزاروں برس تک لوگ چیزوں کو گرتا دیکھتے رہے، مگر یہی خیال کیوں نہ آیا؟ وہ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا نیوٹن نے خود اس سیب سے پہلے کبھی کوئی چیز گرتے نہیں دیکھی تھی۔

یہاں اہم فرق بہت سادہ ہے۔ کسی چیز کو گرتا دیکھنا ایک بات ہے، اور اس گرنے کو ایک خاص وجہ کے ساتھ جوڑ کر نیا خیال بنانا دوسری بات ہے۔ بیان نمبر ۱ اسی فرق پر توجہ دلاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ اس خاص موقع کو اتنی بڑی اہمیت کیوں دی گئی۔

آخر میں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ایک اور امکان سوال کی صورت میں رکھتے ہیں: کیا نیوٹن کے ذہن میں پہلے کوئی دوسرا خیال تھا جو سیب کے گرنے کے وقت بدل گیا؟ بیان یہاں اس پر کوئی آخری جواب نہیں دیتا، اس لیے ہمیں بھی اپنی طرف سے کوئی پرانا خیال گھڑ کر نیوٹن کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہیے۔

اس بیان کا آسان خلاصہ یہ ہے کہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ سیب کے قصے کو فوراً قبول کرنے کے بجائے اس کی منطق پر سوال کرتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ایک عام واقعہ—کسی چیز کا گرنا—کس طرح ایک خاص نئے خیال کا آغاز مانا گیا۔ تفصیلی بحث کے لیے وہ قاری کو باب دوم کی طرف بھیجتے ہیں۔
اصل PDF نسخے

صفحوں کے حوالے اصل نسخے سے متعلق ہیں؛ دوسرے نسخوں کی صفحہ بندی مختلف ہو سکتی ہے۔

اصل PDF نسخے

ماخذ کھولیں ↗

اگر PDF یہاں نظر نہ آئے تو ماخذ الگ ٹیب میں کھولیں۔