فہرستِ مضامین بیان نمبر 2
لغت
دلیل#2

بیان نمبر 2

جسم کی مزاحمت کے ثبوت کا سوال

تشریح اور خلاصہ مدیر کا تیار کردہ مواد ہیں۔ اصل عبارت کی جانچ کے لیے ماخذ دیکھیں۔

وفادار رواں متن
سب سے پہلے، اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یہ قوت خود جسم کے اندر پوشیدہ ہے؟ کیا آپ کہتے ہیں کہ اس کا ثبوت ہمارا یہ تجربہ ہے کہ جب ہم کسی جسم کو حرکت دینا چاہتے ہیں تو وہ جتنا زیادہ وزنی ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ مزاحمت کرتا ہے، اور مقصد پورا کرنے کے لیے اتنی ہی زیادہ قوت درکار ہوتی ہے؟
آسان تشریح
اس بیان کو سمجھنے کے لیے پہلے اس سے فوراً پہلے والے مفروضے کو دیکھیں۔ وہاں یہ بات کہی گئی ہے کہ جسم کے اندر ایک ایسی ہے جو اسے حرکت دینے کی کوشش کی مزاحمت کرتی ہے، اور اس مزاحمت کی مقدار جسم کے وزن سے جوڑی گئی ہے۔

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ یہاں ابتدا ہی میں کوئی دوسری مکمل تشریح پیش نہیں کرتے۔ وہ پہلے ایک سادہ سوال اٹھاتے ہیں: اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ یہ مزاحمت کرنے والی قوت واقعی خود جسم کے اندر پوشیدہ ہے؟

جس ممکنہ دلیل کی طرف سوال اشارہ کرتا ہے وہ روزمرہ تجربہ ہے۔ ایک بھاری چیز کو حرکت دینا عموماً ہلکی چیز کے مقابلے میں زیادہ مشکل محسوس ہوتا ہے، اور اسے مطلوبہ انداز میں چلانے کے لیے زیادہ قوت لگانی پڑتی ہے۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ہے۔ ایک بات وہ ہے جو ہم دیکھتے ہیں: زیادہ بھاری جسم کو چلانے کے لیے زیادہ کوشش درکار ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہنا ہے کہ اس کا سبب لازماً جسم کے اندر موجود ایک خاص پوشیدہ قوت ہے۔ یہ دوسری بات ایک الگ دعویٰ ہے۔

مثلاً ایک ہلکے ڈبے اور ایک بہت بھاری ڈبے کو سوچیں۔ اگر بھاری ڈبا زیادہ مشکل سے حرکت کرے تو ہمیں اتنا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں حالتیں ایک جیسی نہیں۔ صرف اسی مشاہدے سے ابھی یہ طے نہیں ہوتا کہ اندر کس خاص قوت کو اس فرق کا سبب کہا جائے۔

آسان جدید وضاحت کے لیے پہلے اتنی بات سمجھیں کہ کوئی جسم اپنی رکی ہوئی یا چلتی ہوئی حالت کو بدلنے کی مخالفت کرتا ہے جب تک اس پر کوئی اثر نہ پڑے۔ حالت بدلنے کی اس مخالفت کو طبیعیات میں کہتے ہیں۔ یہاں یہ لفظ صرف بات سمجھنے میں مدد کے لیے ہے؛ اسے پچھلے مفروضے میں بیان کی گئی خاص قوت کے عین برابر نہ سمجھا جائے۔

ماخذ میں مزاحمت کو وزن کے ساتھ بھی جوڑا گیا ہے: زیادہ وزن، زیادہ مزاحمت، اور حرکت دینے کے لیے زیادہ قوت۔ بیان نمبر 2 یہاں اس نسبت کو آخری طور پر طے نہیں کرتا، بلکہ یہ پوچھتا ہے کہ اس تجربے سے جسم کے اندر فرض کی گئی خاص قوت کیسے ثابت ہوتی ہے۔

اس لیے اصل سوال دلیل کے ربط کا ہے: اگر ایک بھاری جسم کو چلانے میں زیادہ قوت لگتی ہے تو کیا یہی تجربہ اس اگلے دعوے کو ثابت کرتا ہے کہ جسم کے اندر کوئی خاص قوت پوشیدہ ہے؟ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ اسی مشاہدے اور اس سے نکالے گئے دعوے کے درمیان دلیل واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

لہٰذا بیان نمبر 2 کو حرکت کی پوری بحث نہ سمجھیں، بلکہ ثبوت مانگنے والا سوال سمجھیں۔ یہ قاری سے کہتا ہے کہ الگ الگ دیکھے: حقیقت میں کیا دیکھا گیا، اس سے کیا نتیجہ نکالا گیا، اور پیش کی گئی دلیل اس نتیجے کے لیے کافی ہے یا نہیں۔ آگے کے بیانات میں بحث جاری رہتی ہے۔
اصل PDF نسخے

صفحوں کے حوالے اصل نسخے سے متعلق ہیں؛ دوسرے نسخوں کی صفحہ بندی مختلف ہو سکتی ہے۔

اصل PDF نسخے

ماخذ کھولیں ↗

اگر PDF یہاں نظر نہ آئے تو ماخذ الگ ٹیب میں کھولیں۔