فہرستِ مضامین بیان نمبر 4
لغت
دلیل#4

بیان نمبر 4

کشش، دفع اور گرتے ہوئے سیب کا سوال

تشریح اور خلاصہ مدیر کا تیار کردہ مواد ہیں۔ اصل عبارت کی جانچ کے لیے ماخذ دیکھیں۔

وفادار رواں متن
بیان نمبر 4: سیب کے گرنے نے قوتِ کشش کی طرف اشارہ کیا۔ کھینچنے والے کا خیال اس وقت آیا جب سیب کو زمین پر گرا ہوا دیکھا گیا، اس لیے یہ خیال پیدا ہوا کہ زمین میں کشش کی قوت ہے۔ پھر جب سیب کو نیچے آتے دیکھا تو قوتِ دفع کا احساس ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک ہی اسے نیچے لانے کے لیے کافی ہے، پھر دو قوتوں کی کیا ضرورت ہے؟ ”حدائق النجوم“ میں کہا گیا ہے کہ اگر گولی کو برابر سطح پر چلایا جائے تو وہ اپنی فطرت کے مطابق سیدھی لکیر میں جائے گی۔ یہ قوتِ دفع کی طرف اشارہ ہے۔
آسان تشریح
اس بیان سے فوراً پہلے ماخذ میں کہا گیا ہے کہ ایک جسم دوسرے جسم کی کھینچ سے دور جانے کا رجحان رکھتا ہے۔ آسان لفظوں میں، یہاں ایک ایسے اثر کی بات ہے جو کھینچاؤ کے خلاف دور کی طرف لے جائے یا اس کی مزاحمت کرے؛ اسے کہا گیا ہے۔ بیان نمبر 4 یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا اس خیال کو ایک ہی معنی میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ سیب کی مثال سے بات شروع کرتے ہیں۔ ماخذ کی کہانی میں سیب کو گرنے کے بعد زمین پر دیکھا گیا۔ اس نتیجے سے یہ خیال پیدا ہوا کہ زمین سیب کو اپنی طرف کھینچتی ہے؛ اس کھینچاؤ کو کہا گیا ہے۔

پھر اسی سیب کے بارے میں ایک دوسری بات سامنے آتی ہے: جب اسے نیچے آتے دیکھا جاتا ہے تو دفع کو بھی وضاحت میں شامل کیا جاتا ہے۔ سوال بہت سادہ ہے: اگر دونوں جگہ نظر آنے والی حرکت نیچے کی طرف ہے تو ان دو الگ نام والے اثرات میں سے ہر ایک الگ طور پر کیا کام کر رہا ہے؟

یہاں سے سوال بنتا ہے: ”دو کی کیا ضرورت ہے؟“ بات صرف دو ناموں کی نہیں، دو الگ سببوں کی ہے۔ اگر کہا جائے کہ ان میں سے کوئی ایک اکیلا ہی سیب کو نیچے لانے کے لیے کافی ہے تو پھر یہ دکھانا ہوگا کہ دوسرے سبب کی الگ ضرورت کیا ہے۔

اس طرح بیان مشاہدے اور وضاحت کی ترتیب کو جانچتا ہے۔ پہلے ایک واقعہ دیکھا جاتا ہے، پھر اس کا سبب نام سے بیان کیا جاتا ہے۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ چاہتے ہیں کہ صرف نام کو مکمل وضاحت نہ سمجھا جائے، جب تک یہ واضح نہ ہو کہ بتایا گیا سبب اس واقعے میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔

گولی کی مثال ایک دوسری قسم کی حرکت سامنے لاتی ہے۔ نقل کیے گئے بیان کے مطابق برابر سطح پر چلائی گئی گولی اسی بے مڑ راستے پر آگے جاتی ہے، اور اسے دفع کی علامت سمجھا گیا ہے۔ ایک ہی بے مڑ راستے پر آگے بڑھنے کو یہاں کہا جا سکتا ہے۔

اس بحث میں سیب اور گولی کی مثالیں الگ کام کرتی ہیں۔ سیب کی مثال نیچے گرنے کے بارے میں سوال اٹھاتی ہے، جبکہ گولی کی مثال سیدھا آگے جانے کی بات کرتی ہے۔ بیان نمبر 4 دونوں استعمالات کو ساتھ رکھ کر پوچھتا ہے کہ کیا ”دفع“ کا ایک ہی لفظ مختلف طرح کے رویّوں کی وضاحت کے لیے کافی فرق بتائے بغیر استعمال ہو رہا ہے۔

صرف آسان جدید وضاحت کے لیے یوں سمجھیں: کسی چیز کو دھکیلنے یا کھینچنے والا ایسا اثر جو اس کی حرکت بدل سکے کہلاتا ہے۔ کسی جسم کا سیدھا چلتے رہنا اور اس کا مڑنا یا نیچے گرنا ایک ہی طرح کی حرکت نہیں ہیں۔ یہ وضاحت کتاب کے استدلال کا فیصلہ نہیں کرتی؛ صرف یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ بیان ہر نام دی گئی قوت کا الگ کام کیوں پوچھ رہا ہے۔

بیان نمبر 4 کو آسانی سے سمجھنے کے لیے تین چیزیں الگ رکھیں: حقیقت میں کیا دیکھا گیا، اس کے سبب کو کیا نام دیا گیا، اور اس سبب سے حرکت میں کون سی تبدیلی پیدا ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ یہ فرق سامنے ہو تو امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا سوال واضح ہو جاتا ہے: اگر کشش اور دفع دونوں کو مانا جا رہا ہے تو ہر ایک کا الگ کردار کیا ہے؟
اصل PDF نسخے

صفحوں کے حوالے اصل نسخے سے متعلق ہیں؛ دوسرے نسخوں کی صفحہ بندی مختلف ہو سکتی ہے۔

اصل PDF نسخے

ماخذ کھولیں ↗

اگر PDF یہاں نظر نہ آئے تو ماخذ الگ ٹیب میں کھولیں۔