دلیل#5
بیان نمبر 5
گولی کی حرکت، نیچے آنا اور دفع
تشریح اور خلاصہ مدیر کا تیار کردہ مواد ہیں۔ اصل عبارت کی جانچ کے لیے ماخذ دیکھیں۔
وفادار رواں متن
میرا بیان نمبر 5: اس کا جواب گولی چلانے کی مثال میں ہے۔ اگر آپ اسے اس طرح رکھیں کہ اس میں بالکل کوئی حرکت نہ ہو، تو وہ بال برابر بھی آگے نہیں بڑھے گی۔ البتہ اگر سطح ہر جگہ برابر نہ ہو تو وہ ڈھال کی شکل میں نیچے آئے گی۔ اگر آپ منجنیق سے پتھر پھینکیں تو وہ روانہ ہوتے ہی زمین کی طرف نیچے آنے لگے گا۔ یہی دفع ہے۔
آسان تشریح
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ پچھلی گولی والی مثال کا جواب دیتے ہوئے پہلے سکون اور حرکت کو الگ سمجھاتے ہیں۔ جس گولی کو آگے کی کوئی حرکت دی ہی نہ گئی ہو، وہ صرف گولی ہونے کی وجہ سے خود بخود آگے نہیں بڑھتی۔
پہلی بات بہت سادہ ہے: آگے جانے کے لیے جسم کو کسی نہ کسی طرح آگے کی حرکت ملنی چاہیے۔ اگر حرکت ہی نہ دی جائے تو آگے سفر شروع نہیں ہوتا۔
اس کے بعد وہ بتاتے ہیں کہ جسم کو آگے بھیج دینے کے بعد اس کا راستہ ہمیشہ بالکل سیدھا اور برابر نہیں رہتا۔ وہ آگے بڑھتے ہوئے نیچے کی طرف بھی مڑ سکتا ہے۔
اسی بات کو منجنیق سے پھینکے گئے پتھر کی مثال سے سمجھایا گیا ہے۔ پتھر آگے جاتا ہے، لیکن اسی سفر کے دوران زمین کی طرف نیچے بھی آتا ہے۔
ہوا میں چلتے ہوئے جسم کے اس راستے کو کہا جاتا ہے۔ آسان لفظوں میں یہ صرف وہ راستہ ہے جس پر جسم اڑتے یا چلتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔
اس بیان میں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ راستے کے نیچے مڑنے کو اس چیز سے جوڑتے ہیں جسے اصل متن کہتا ہے۔ یہاں دفع اصل کتاب کی اپنی اصطلاح ہے، اس لیے اسے اسی دلیل کے اندر سمجھنا چاہیے۔
آسانی کے لیے آج کا قاری دو باتیں الگ رکھ سکتا ہے۔ ایک وہ آگے کی حرکت ہے جو گولی یا پتھر کو پہلے دی گئی۔ دوسری وہ نیچے کی طرف اثر ہے جو سفر کے دوران اس کے راستے کو بدلتا ہے۔
جدید طبیعیات میں زمین کی طرف کھینچنے والے مانوس اثر کو کہا جاتا ہے۔ یہ جدید وضاحت اصل متن کی جگہ نہیں لے رہی؛ اس کا مقصد صرف زیرِ بحث حرکت کو آسانی سے سمجھانا ہے۔
اسی لیے یہ مثال مفید ہے: ایک جسم ایک ہی وقت میں آگے بھی جا سکتا ہے اور نیچے بھی آ سکتا ہے۔ آگے کی حرکت اور نیچے کی طرف مڑنا ایک چیز نہیں، اگرچہ دونوں ایک ہی پرواز میں ساتھ نظر آتے ہیں۔
اس طرح بیان نمبر 5 کا اصل مقصد پہلے پیش کی گئی اس بات کا جواب دینا ہے کہ گولی اپنے طور پر سیدھی آگے چلی جاتی ہے۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ حقیقی حرکت کی ضرورت اور جسم کے نیچے آنے والے راستے کی طرف توجہ دلاتے ہیں، اور اسے اصل کتاب کے دفع والے مباحث کے اندر بیان کرتے ہیں۔
پہلی بات بہت سادہ ہے: آگے جانے کے لیے جسم کو کسی نہ کسی طرح آگے کی حرکت ملنی چاہیے۔ اگر حرکت ہی نہ دی جائے تو آگے سفر شروع نہیں ہوتا۔
اس کے بعد وہ بتاتے ہیں کہ جسم کو آگے بھیج دینے کے بعد اس کا راستہ ہمیشہ بالکل سیدھا اور برابر نہیں رہتا۔ وہ آگے بڑھتے ہوئے نیچے کی طرف بھی مڑ سکتا ہے۔
اسی بات کو منجنیق سے پھینکے گئے پتھر کی مثال سے سمجھایا گیا ہے۔ پتھر آگے جاتا ہے، لیکن اسی سفر کے دوران زمین کی طرف نیچے بھی آتا ہے۔
ہوا میں چلتے ہوئے جسم کے اس راستے کو کہا جاتا ہے۔ آسان لفظوں میں یہ صرف وہ راستہ ہے جس پر جسم اڑتے یا چلتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔
اس بیان میں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ راستے کے نیچے مڑنے کو اس چیز سے جوڑتے ہیں جسے اصل متن کہتا ہے۔ یہاں دفع اصل کتاب کی اپنی اصطلاح ہے، اس لیے اسے اسی دلیل کے اندر سمجھنا چاہیے۔
آسانی کے لیے آج کا قاری دو باتیں الگ رکھ سکتا ہے۔ ایک وہ آگے کی حرکت ہے جو گولی یا پتھر کو پہلے دی گئی۔ دوسری وہ نیچے کی طرف اثر ہے جو سفر کے دوران اس کے راستے کو بدلتا ہے۔
جدید طبیعیات میں زمین کی طرف کھینچنے والے مانوس اثر کو کہا جاتا ہے۔ یہ جدید وضاحت اصل متن کی جگہ نہیں لے رہی؛ اس کا مقصد صرف زیرِ بحث حرکت کو آسانی سے سمجھانا ہے۔
اسی لیے یہ مثال مفید ہے: ایک جسم ایک ہی وقت میں آگے بھی جا سکتا ہے اور نیچے بھی آ سکتا ہے۔ آگے کی حرکت اور نیچے کی طرف مڑنا ایک چیز نہیں، اگرچہ دونوں ایک ہی پرواز میں ساتھ نظر آتے ہیں۔
اس طرح بیان نمبر 5 کا اصل مقصد پہلے پیش کی گئی اس بات کا جواب دینا ہے کہ گولی اپنے طور پر سیدھی آگے چلی جاتی ہے۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ حقیقی حرکت کی ضرورت اور جسم کے نیچے آنے والے راستے کی طرف توجہ دلاتے ہیں، اور اسے اصل کتاب کے دفع والے مباحث کے اندر بیان کرتے ہیں۔
اس مطالعے کے انداز میں ابھی متن دستیاب نہیں۔ دوسرا انداز منتخب کریں یا اصل PDF دیکھیں۔
اصل PDF نسخے
صفحوں کے حوالے اصل نسخے سے متعلق ہیں؛ دوسرے نسخوں کی صفحہ بندی مختلف ہو سکتی ہے۔