فہرستِ مضامین بیان نمبر 7
لغت
دلیل#7

بیان نمبر 7

رسی والے پتھر کی مثال اور مبینہ قوتِ دافعہ

تشریح اور خلاصہ مدیر کا تیار کردہ مواد ہیں۔ اصل عبارت کی جانچ کے لیے ماخذ دیکھیں۔

وفادار رواں متن
بیان نمبر 7: یہاں قوتِ دافعہ کو بغیر کسی دلیل کے مان لیا گیا ہے، اور رسی سے بندھے پتھر کی مثال مناسب نہیں۔ جو طاقت آپ کو مخالف سمت کے مقابل دکھائی دیتی ہے، وہ دراصل آپ کی لگائی ہوئی روک کا اثر ہے۔ حقیقت میں نہ پتھر آدمی یا مرکز سے دور دھکیلنے کی کوئی اپنی قوت رکھتا ہے اور نہ ان کی طرف کھنچنے کی۔ اس لیے جب باہر سے مسلط کی گئی حرکت کی قسموں پر غور ہو تو اسے پتھر کی اپنی قوتِ دافعہ نہیں کہنا چاہیے۔ تحقیق کے لیے ہم ان تمام قوتوں کو الگ رکھنا چاہتے ہیں جو حرکت کے لحاظ سے جسم پر باہر سے جبری عامل کے طور پر اثر ڈالتی ہیں۔
آسان تشریح
بیان نمبر 7 سے فوراً پہلے رسی سے بندھے پتھر کی مثال دی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ جب پتھر کو رسی کے ساتھ دائرے میں گھمایا جائے تو وہ مرکز سے دور جانے والا معلوم ہوتا ہے، اور جتنا تیز گھمایا جائے یہ کیفیت اتنی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ دائرے میں اس طرح گھومنے کو کہتے ہیں، اور پچھلا مفروضہ اس بظاہر باہر جانے والی کیفیت کو مرکز سے دور دھکیلنے والی طاقت، یعنی ، مانتا ہے۔

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ اسی پہلے قدم پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قوتِ دافعہ کو ثابت نہیں کیا گیا بلکہ پہلے ہی مان لیا گیا ہے۔ رسی کا تن جانا اور ہاتھ پر زیادہ کھینچ محسوس ہونا، خود بخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ پتھر کے اندر کوئی الگ طاقت موجود ہے جو اسے مرکز سے دور دھکیل رہی ہے۔

اصل فرق پتھر کی اپنی حالت اور اس پر لگائی گئی روک کے درمیان ہے۔ آپ کا ہاتھ اور رسی پتھر کے راستے کو مسلسل قابو میں رکھتے ہیں۔ اس لیے رسی تھامتے وقت جو مزاحمت محسوس ہوتی ہے وہ اس بیرونی روک کا نتیجہ ہو سکتی ہے؛ اسے فوراً پتھر کی اپنی قوت نہیں سمجھنا چاہیے۔

اسی لیے بیان نمبر 7 میں کہا گیا ہے کہ پتھر کے اندر نہ آدمی یا مرکز سے دور کرنے والی اپنی کوئی قوت ہے اور نہ ان کی طرف کھینچنے والی۔ مطلب یہ نہیں کہ وہاں کچھ ہو ہی نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ وجہ کس کو کہا جائے: اثر خود پتھر سے پیدا ہو رہا ہے یا ہاتھ اور رسی سے، جو اس کی حرکت کا راستہ قابو میں رکھ رہے ہیں؟

ماخذ باہر سے مسلط کی گئی حرکت کا بھی ذکر کرتا ہے۔ آسان لفظوں میں، اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی بیرونی چیز پتھر کو چلا رہی ہو، روک رہی ہو یا اس کا راستہ بدل رہی ہو۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ چاہتے ہیں کہ ایسے بیرونی اثرات کو اس قوت سے الگ رکھا جائے جس کے بارے میں دعویٰ ہو کہ وہ خود پتھر کے اندر موجود ہے۔

رسی کی مثال کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ جدید وضاحت مدد دیتی ہے۔ اگر رسی چھوڑ دی جائے تو پتھر فوراً کسی نئی باہر والی سمت میں دھکا نہیں کھاتا، بلکہ اس لمحے جس سمت میں چل رہا ہوتا ہے اسی سیدھی سمت میں آگے بڑھتا ہے۔ دائرے کو چھوڑنے کے مقام پر چھوتی ہوئی اس سیدھی سمت کو کہتے ہیں۔ یہ جدید وضاحت ہے، بیان نمبر 7 کے اصل الفاظ میں اضافہ نہیں۔

جب رسی بندھی رہتی ہے تو وہ پتھر کی سمت کو بار بار مرکز کی طرف موڑتی ہے۔ جدید اصطلاح میں دائرے کے راستے پر جسم کو اندر کی طرف موڑنے والی قوت کو کہتے ہیں۔ اس سے رسی کی اندر کی طرف کارروائی اور پتھر میں فرض کی گئی الگ باہر دھکیلنے والی قوت کے درمیان فرق سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔

اس لیے بیان نمبر 7 کا بنیادی منطقی سوال وجہ کے بارے میں ہے۔ رسی کا تننا، ہاتھ پر کھینچ محسوس ہونا اور پتھر کی سمت بدلنا دیکھی جانے والی چیزیں ہیں، لیکن ماخذ کہتا ہے کہ ان چیزوں کو دیکھ لینا خود اس خاص باہر دھکیلنے والی قوت کا ثبوت نہیں بنتا جس کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

آخری جملہ زیادہ صاف جانچ چاہتا ہے۔ اگر پتھر کی مبینہ قوتِ دافعہ کو پرکھنا ہے تو آدمی، رسی یا کسی اور بیرونی عامل کی لگائی ہوئی قوتوں کو اس کے ساتھ نہ ملایا جائے۔ پہلے ان اثرات کو الگ کریں، پھر پوچھیں کہ پتھر کی اپنی کون سی قوت باقی رہتی ہے، اگر کوئی رہتی ہے۔ یہی بیان نمبر 7 کا مرکزی نکتہ ہے۔
اصل PDF نسخے

صفحوں کے حوالے اصل نسخے سے متعلق ہیں؛ دوسرے نسخوں کی صفحہ بندی مختلف ہو سکتی ہے۔

اصل PDF نسخے

ماخذ کھولیں ↗

اگر PDF یہاں نظر نہ آئے تو ماخذ الگ ٹیب میں کھولیں۔