فہرستِ مضامین بیان نمبر 8
لغت
دلیل#8

بیان نمبر 8

قوتوں کی اقسام اور رسی والے پتھر کی حرکت

تشریح اور خلاصہ مدیر کا تیار کردہ مواد ہیں۔ اصل عبارت کی جانچ کے لیے ماخذ دیکھیں۔

وفادار رواں متن
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ زیرِ بحث جبری اثرات کو پہلے دو بڑی قسموں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک محرک یا حرکت پیدا کرنے والا سبب ہے۔ دوسرا روکنے یا قابو میں رکھنے والا عامل ہے جو حرکت کو بڑھنے نہیں دیتا؛ مثلاً ہاتھ سے پھسلتے ہوئے پتھر کو روک دینا۔ پھر محرک کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں۔ پہلی کشش ہے، جو چلتی ہوئی چیز کو اثر ڈالنے والے عامل کی طرف لاتی ہے۔ دوسری وہ قوت ہے جو چیز کو کسی دوسری سمت پھینکتی ہے؛ اس بیان کی اصطلاح میں اسے دفع کہا گیا ہے۔

فرق سمجھانے کے لیے A کو آدمی کی جگہ اور C کو پتھر کی جگہ مانا گیا ہے۔ آدمی چھڑی سے پتھر کو مارتا ہے اور اسے C سے B کی طرف بھیج دیتا ہے۔ بیان کے مطابق یہ کشش نہیں، کیونکہ کشش ہوتی تو پتھر C–A کی سمت آتا، جبکہ یہاں وہ C–B کی سمت گیا۔ اس کے باوجود B پر پتھر A پر موجود آدمی کے C کی نسبت زیادہ قریب ہے، کیونکہ AB عمودی ضلع ہے اور AC وتر ہے، اور AB، AC سے چھوٹا ہے۔ اس طرح اس تقسیم میں صرف قریب ہو جانا کسی عمل کو کشش نہیں بنا دیتا؛ جسم کو کس سمت دھکیلا گیا ہے، یہ بھی اہم ہے۔

اس کے بعد بیان ان اثرات کی مزید قسمیں قائم کرتا ہے۔ ایک ایسی دفعی کارروائی کا ذکر ہے جو چلتی ہوئی چیز کو ایک خاص بلندی پر رکھ سکتی ہے؛ مثلاً پتھر کو زمین سے ذرا اوپر رکھتے ہوئے اپنی طرف لانا یا آگے دھکیلنا۔ پھر مثبت اور منفی صورتوں کا فرق بیان کیا جاتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ جسم کو منزل سے دور کیا جا رہا ہے یا اس کی طرف لایا جا رہا ہے۔ ایک اور فرق یہ ہے کہ حرکت کی لکیر وہی رہتی ہے یا بدل جاتی ہے۔

جس صورت میں حرکت کی لکیر بدلتی ہے اسے اصل متن میں انتقالی کہا گیا ہے۔ دوسری شکل میں پتھر A سے C کی طرف پھینکا جاتا ہے۔ جب وہ B تک پہنچتا ہے تو چھڑی سے مار کر E کی طرف موڑ دیا جاتا ہے؛ متن اسے انتقالی انعکاس یا دفع قرار دیتا ہے۔ جب پتھر D تک پہنچ کر R کی طرف کھینچا جاتا ہے تو اسے انتقالی کشش کہا گیا ہے۔ اگر جسم اسی لکیر پر C کی طرف جائے اور پھر B سے گزرتا ہوا A کی طرف واپس کھینچا جائے تو B تک باہر کی طرف جانے والے حصے کو مثبت روک اور B سے واپسی کو مثبت کشش کہا گیا ہے، کیونکہ جسم اسی لکیر پر واپس لایا گیا۔

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان تقسیمات سے مجموعی طور پر تیرہ قسمیں بنتی ہیں۔ پھر وہ اس تقسیم کو رسی سے بندھے پتھر کی معروف مثال پر لاگو کرتے ہیں جسے سر کے گرد گھمایا جاتا ہے۔ اس مثال میں ان کے مطابق کشش کا کوئی کام نہیں، کیونکہ مقصد پتھر کو آدمی کی طرف کھینچنا نہیں بلکہ اسے روک کر حد میں رکھنا ہے۔ باقی اقسام میں سے یہاں چار کردار بیان کیے جاتے ہیں: روکنے والا عامل، اور تین قسمیں جنہیں منع کرنے والی، اٹھائے رکھنے والی، اور انتقالی قوت کہا گیا ہے۔

منع کرنے والی صورت یہ ہے کہ پتھر کو اتنا باہر کیا جائے کہ رسی پوری طرح تن جائے۔ اٹھائے رکھنے والی قوت یہ ہے کہ ہاتھ اونچا رکھا جائے تاکہ پتھر زمین پر نہ گرے۔ انتقالی قوت یہ ہے کہ ہاتھ کو سر کے گرد مسلسل گھمایا جائے تاکہ پتھر کی حرکت کی لکیر بار بار بدلتی رہے۔ اسی کے ساتھ متن دفع کو یہ کردار دیتا ہے کہ وہ پتھر کو سیدھی لکیر کی سمت میں چلنے کا اثر دیتی رہے۔

بیان کے مطابق ہر اس مقام پر جہاں سمت بدلی جاتی ہے، پتھر پھر اسی سیدھی سمت میں جانے کی طرف ہوتا ہے، لیکن تنی ہوئی رسی، اوپر رکھنے کا سہارا، اور سمت کی مسلسل تبدیلی اسے سیدھا آگے نکل جانے نہیں دیتے۔ ان سب کے ملے ہوئے اثر سے پتھر دائرے میں چلتا ہے۔ آدمی پتھر سے ہر وقت تقریباً ایک ہی فاصلے پر رہتا ہے، اس لیے وہ مرکز کا مقام بنتا ہے، جبکہ رسی روکنے والے عامل کا کام کرتی ہے۔

بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ رسی والے پتھر کی اس مثال کو کشش کہنا درست نہیں۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق اس مثال میں خود پتھر کے اندر آدمی یا مرکز کی طرف کوئی کشش یا ان سے دور جانے کی کوئی مستقل دفع موجود نہیں؛ نظر آنے والا اثر روکنے اور لگائی گئی کارروائی سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پتھر کے باہر جانے کی جو قوت سمجھی جاتی ہے، وہ دراصل اسے گھمانے کے دوران لگائی گئی مزاحمت کے اثر سے اخذ کی جا رہی ہے۔ آخر میں وہ اس اصطلاحی ابہام کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ایک جگہ اسے “دائرے کے مرکز کی طرف دفع” کہا جاتا ہے، جبکہ دوسری جگہ اسی دفع کو سورج سے دور جانے کے معنی میں لیا جاتا ہے، اور سورج کو بھی مرکز مانا جاتا ہے۔
آسان تشریح
یہ بیان بنیادی طور پر وں اور اثرات کی درجہ بندی کر رہا ہے۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ یہ الگ الگ دکھانا چاہتے ہیں کہ چلتی ہوئی چیز کو کس طرح دھکیلا، کھینچا، روکا، سہارا دیا یا موڑا جا سکتا ہے۔ یہاں استعمال ہونے والے نام اسی کتاب کے استدلال کی اصطلاحات ہیں، اس لیے پہلے یہ سمجھنا آسان ہے کہ ہر نام کس کام کے لیے رکھا گیا ہے۔

پہلی تقسیم بہت سادہ ہے۔ محرک حرکت پیدا کرتا ہے یا اسے بدلتا ہے۔ روکنے والا عامل حرکت کو حد میں رکھتا ہے۔ اگر پتھر پھسل رہا ہو اور آپ ہاتھ سے اسے روک دیں تو ہاتھ روکنے کا کام کر رہا ہے۔ یوں مزید چھوٹی قسمیں بنانے سے پہلے دو بڑے کردار سامنے آ جاتے ہیں۔

اس کے بعد اور اس چیز کا فرق آتا ہے جسے متن کہتا ہے۔ یہاں کشش سے مراد چلتی ہوئی چیز کو اثر ڈالنے والے عامل کی طرف لانا ہے۔ دفع سے مراد اسے کسی دوسری سمت چلانا ہے۔ متن کا اہم نکتہ یہ ہے کہ نام صرف اس بات سے طے نہیں ہوتا کہ چیز قریب ہوئی یا دور، بلکہ بھی دیکھی جاتی ہے۔

پہلی شکل یہی بات سمجھاتی ہے۔ A آدمی کی جگہ ہے اور C پتھر کی ابتدائی جگہ۔ ضرب لگنے سے پتھر C سے B کی طرف جاتا ہے۔ B، A کے C کی نسبت قریب ہے، لیکن پتھر C–A کی لکیر پر نہیں چلا۔ شکل میں AB چھوٹا ہے اور AC ہے۔ اس لیے متن کہتا ہے کہ پتھر آدمی کے قریب آ سکتا ہے، پھر بھی اس تقسیم کے مطابق اس کارروائی کو کشش نہ کہا جائے۔

پھر بیان مزید فرق قائم کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کوئی عمل جسم کو ایک خاص بلندی پر رکھتا ہے یا نہیں، اسے منزل سے دور کرتا ہے یا قریب لاتا ہے، اور حرکت کی وہی لکیر باقی رہتی ہے یا بدل جاتی ہے۔ یہ تقسیمیں پہلی نظر میں مشکل لگ سکتی ہیں، مگر ان سب کا مقصد ایک سادہ سوال کا جواب دینا ہے: لگائی گئی قوت نے جسم کی حرکت میں اصل تبدیلی کیا کی؟

دوسری شکل حرکت کی سمت بدلنے کے بارے میں ہے۔ پتھر پہلے A سے C کی طرف جاتا ہے۔ B پر اسے مار کر E کی طرف موڑ دیا جاتا ہے؛ متن اس تبدیلی کو ایک خاص نام دیتا ہے۔ پھر D پر اگر اسے R کی طرف کھینچا جائے تو اس کے لیے دوسرا نام استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی خیال کو ایک ہی لکیر پر حرکت پر بھی لگایا جاتا ہے: اسی لکیر پر دور جانا اور پھر اسی لکیر پر واپس آنا الگ الگ قسموں میں رکھا گیا ہے۔

اس درجہ بندی کے بعد بیان رسی سے بندھے اور سر کے گرد گھمائے جانے والے پتھر کی مثال لیتا ہے۔ اس میں چار کام نمایاں کیے جاتے ہیں۔ رسی پتھر کو مزید باہر نکلنے سے روکتی ہے۔ اونچا ہاتھ اسے گرنے سے بچاتا ہے۔ گھومتا ہوا ہاتھ اس کی سمت بدلتا رہتا ہے۔ اور متن دفع کے کردار کے ساتھ سیدھی لکیر میں چلنے کا رجحان جوڑتا ہے۔

یہ آخری بات مثال کا ی حصہ ہے۔ ہر لمحے پتھر کی ایک سمت ہوتی ہے جس میں وہ چلتا رہتا اگر کوئی چیز اسے بار بار نہ موڑتی۔ متن اسے کے طور پر بیان کرتا ہے جو ہر نئے مقام پر پھر سامنے آتی ہے۔ رسی اور مسلسل سمت بدلنا پتھر کو اسی سیدھے راستے پر نکل جانے سے روکتے ہیں۔

چونکہ رسی تنی رہتی ہے اور ہاتھ مسلسل گھومتا رہتا ہے، اس لیے پتھر کرتا ہے۔ آدمی اس دائرے کے مرکز پر رہتا ہے اور پتھر سے تقریباً ایک ہی فاصلے پر ہوتا ہے۔ متن کی اصطلاح میں رسی روکنے والے عامل کا کام کرتی ہے: وہ پتھر کو مرکز سے زیادہ دور نہیں جانے دیتی جبکہ اس کی سمت مسلسل بدلتی رہتی ہے۔

یہاں سے بیان نمبر 8 کا اصل دعویٰ سامنے آتا ہے۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ رسی اور پتھر کی اس مثال میں ایسی کشش ماننا ضروری نہیں جو پتھر کو آدمی کی طرف کھینچے۔ وہ یہ بھی نہیں مانتے کہ اسی مثال میں پتھر کے اندر خود کوئی مستقل باہر کی طرف دفع موجود ہے۔ ان کے بیان میں باہر جانے کا محسوس ہونے والا اثر روکنے، چلانے اور موڑنے کی کارروائیوں سے متعلق ہے۔

ہندسہ سمجھنے کے لیے ایک سادہ جدید تصور مدد دے سکتا ہے، بغیر اس کے کہ متن کے استدلال کو بدلا جائے: دائرے میں چلنے والی چیز کی سمت مسلسل بدلتی رہتی ہے، اور اگر اسے موڑنے والی پابندی ختم ہو جائے تو اسی لمحے وہ اپنی موجودہ سیدھی سمت میں آگے بڑھے گی۔ بیان نمبر 8 ان کرداروں کے لیے اپنی پرانی اصطلاحات استعمال کرتا ہے اور آخر میں متنبہ کرتا ہے کہ “دفع” جیسے الفاظ اگر دائرے اور سورج کے بارے میں مختلف معنی میں استعمال ہوں تو الجھن پیدا ہو سکتی ہے۔ اگلی بحث اسی لفظی مسئلے کو آگے بڑھاتی ہے، لیکن بیان نمبر 8 خود اسی درجہ بندی اور رسی والے پتھر کی مثال پر ختم ہوتا ہے۔
اصل PDF نسخے

صفحوں کے حوالے اصل نسخے سے متعلق ہیں؛ دوسرے نسخوں کی صفحہ بندی مختلف ہو سکتی ہے۔

اصل PDF نسخے

ماخذ کھولیں ↗

اگر PDF یہاں نظر نہ آئے تو ماخذ الگ ٹیب میں کھولیں۔