فہرستِ مضامین بیان نمبر 9
لغت
دلیل#9

بیان نمبر 9

کشش، دفع اور گردش کا مرکز

تشریح اور خلاصہ مدیر کا تیار کردہ مواد ہیں۔ اصل عبارت کی جانچ کے لیے ماخذ دیکھیں۔

وفادار رواں متن
بیان نمبر 9: وہ اس معاملے کی حقیقت کو یوں بیان کرنا چاہتے ہیں: جسم میں جس "قوتِ مرکزیت" کا ذکر کیا جاتا ہے، اس کے باعث کشش کے اثر سے رکا رہتا ہے اور یوں قوتِ دفع کے مقابل آ جاتا ہے؛ پھر ان دونوں کے مجموعے سے وہ مرکز کے گرد گردش کرتا ہے۔ اس کی تفصیل آگے آتی ہے۔ لیکن جب جسم نے ابھی گردش ہی نہیں کی تھی تو وہ مرکز کہاں تھا جس کی وجہ سے دفع پیدا ہوتی؟ اس بیان کے مطابق وہ مرکز تو گردش مکمل ہونے کے بعد ہی متعین ہوگا۔ مرکز اور سورج کے بارے میں ہم باب اوّل میں بحث کریں گے، کیونکہ ان کے بارے میں ان لوگوں کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔
آسان تشریح
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ایک خاص وضاحت کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کوئی چلتا ہوا جسم ایک کے گرد کیسے گھومتا ہے۔ اس وضاحت میں اور ایک الگ ، دونوں کو کردار دیا گیا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ دونوں مل کر جسم کی پیدا کرتے ہیں۔ بیان نمبر ۹ میں مقصد ابھی حرکت کی پوری جدید سائنسی تشریح دینا نہیں ہے۔ پہلے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ خود یہ وضاحت اپنی ترتیب کے لحاظ سے ٹھیک بنتی ہے یا نہیں۔

سب سے پہلے کشش کو سمجھیں۔ سادہ لفظوں میں کشش کسی چیز کو اپنی طرف کھینچنے والا اثر ہے۔ انگریزی ماخذ جسم کے لیے ”“ کی تعبیر بھی استعمال کرتا ہے۔ یہ اسی زیرِ بحث نمونے کی زبان ہے۔ اسے خاموشی سے جدید طبیعیات کی کسی مقرر اصطلاح کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔

اسی نمونے میں کشش سے الگ ایک دفعی رجحان بھی بتایا گیا ہے۔ آسان لفظوں میں اسے ایسا اثر سمجھایا گیا ہے جو کھینچنے والے اثر کے مقابل دور جانے یا اندر کی طرف کھنچنے کی مخالفت کرنے کی طرف مائل ہو۔ بیان نمبر ۹ میں یہ وضاحت کا الگ حصہ ہے۔ اس لیے اسے ماخذ کے اپنے مطلب میں سمجھنا بہتر ہے، نہ کہ خود سے کسی بعد کی سائنسی اصطلاح کا نام دے دینا۔

اس کے بعد گردش کی بات آتی ہے۔ یہاں گردش سے مراد جسم کا ایک مرکز کے گرد چکر لگانا ہے۔ زیرِ بحث وضاحت کہتی ہے کہ کشش اور الگ دفعی رجحان مل کر یہ چکر پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے مرکز صرف آخر میں آنے والا لفظ نہیں رہتا، بلکہ حرکت کی وضاحت میں پہلے ہی استعمال ہو رہا ہے۔

یہیں وہ اصل مشکل سامنے آتی ہے جس کی طرف امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ توجہ دلاتے ہیں۔ بیان میں دفع کو مرکز کے ساتھ جوڑا گیا ہے، اور اسی دفع کو گردش پیدا کرنے والے سبب کا حصہ بھی کہا گیا ہے۔ اگر دفع کے کام کرنے کے لیے مرکز درکار ہے تو بظاہر وضاحت کو گردش مکمل ہونے سے پہلے ہی مرکز کی ضرورت پڑتی ہے۔

اسی لیے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ سوال کرتے ہیں: جب جسم نے ابھی اپنی گردش مکمل نہیں کی تھی تو وہ مرکز کہاں تھا جس کی وجہ سے دفع ہونے کی بات کی جا رہی ہے؟ پھر وہ کہتے ہیں کہ زیرِ تنقید بیان کے مطابق مرکز گردش مکمل ہونے کے بعد متعین ہوگا۔ یہ سبب اور نتیجے کی ترتیب کا سوال ہے: اگر کوئی چیز نتیجہ آنے کے بعد متعین ہوتی ہے تو اسے اسی نتیجے کے سبب میں پہلے سے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

ایک آسان مثال سے اعتراض سمجھیں۔ فرض کریں کہا جائے کہ دروازہ فرش پر بنی ایک نشانی کی وجہ سے کھلتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جائے کہ وہ نشانی دروازہ کھلنے کے بعد بنائی جاتی ہے۔ مسئلہ دروازے یا نشانی میں نہیں، بلکہ وضاحت کی ترتیب میں ہے۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ بھی زیرِ بحث نمونے کے اندر اسی طرح کی ترتیب پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

ایک سادہ جدید وضاحت یہاں مدد دیتی ہے، مگر یہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے اصل الفاظ کا حصہ نہیں ہے۔ اگر کوئی راستہ پہلے ہی ایک معلوم نقطے کے گرد مقرر ہو تو مکمل چکر کا انتظار کیے بغیر بھی اس نقطے کو مرکز کہا جا سکتا ہے۔ کسی گول راستے پر مسلسل مڑتے ہوئے چلنے کو طبیعیات میں کہا جاتا ہے۔ یہ بات صرف اتنا واضح کرتی ہے کہ اعتراض ہر ممکن مرکز کے بارے میں نہیں، بلکہ اسی خاص نمونے میں مرکز، دفع اور گردش کو جس ترتیب سے جوڑا گیا ہے اس کے بارے میں ہے۔

بیان نمبر ۹ کے آخر میں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ مرکز اور سورج کی بڑی بحث کو باب اوّل کے لیے مؤخر کرتے ہیں۔ اس حد کو قائم رکھنا ضروری ہے۔ اس بیان کا محدود کام یہ ہے کہ پہلے زیرِ بحث نمونے کو اسی کی زبان میں سمجھا جائے، پھر دیکھا جائے کہ کشش، دفع، مرکز اور گردش کس ترتیب سے استعمال ہوئے ہیں، اور آخر میں یہ سوال کیا جائے کہ کیا مرکز سے اس وقت وضاحتی کام لیا جا رہا ہے جب اسی بیان کے مطابق وہ ابھی متعین نہیں ہوا تھا۔
اصل PDF نسخے

صفحوں کے حوالے اصل نسخے سے متعلق ہیں؛ دوسرے نسخوں کی صفحہ بندی مختلف ہو سکتی ہے۔

اصل PDF نسخے

ماخذ کھولیں ↗

اگر PDF یہاں نظر نہ آئے تو ماخذ الگ ٹیب میں کھولیں۔