دلیل#10
بیان نمبر 10
قوتِ دفع اور گردش کا باہمی سبب بننا
تشریح اور خلاصہ مدیر کا تیار کردہ مواد ہیں۔ اصل عبارت کی جانچ کے لیے ماخذ دیکھیں۔
وفادار رواں متن
میرا بیان نمبر 10: یہاں یہ کہنا کہ گردش قوتِ دفع کی وجہ سے ہوتی ہے، ان کا قابلِ مذمت قیاس ہے، اور وہ اسی خیال کے بہت دلدادہ ہیں کہ قوتِ دفع خود گردش کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بات نہایت بے معنی اور غیر معقول ہے۔ لیکن جدید فلکیات کو جھوٹ بولنے کی خوب عادت ہے، جس کی مذمت، ان شاء اللہ، باب سوم میں آئے گی۔
آسان تشریح
بیان نمبر 10 سے فوراً پہلے کتاب ایک خاکہ پیش کرتی ہے جس میں سورج کی طرف کھینچنے والی قوت کو کہا گیا ہے، جبکہ سیارے کے باہر کی طرف جانے والے رجحان کو کہا گیا ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ یہی دونوں مل کر سیارے کی مرکز کے گرد کا سبب بنتے ہیں۔
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ اس بیان میں ایک سادہ سوال پر توجہ دلاتے ہیں: اس وضاحت میں پہلے کیا آتا ہے، قوتِ دفع یا گردش؟
ایک طرف پچھلی وضاحت قوتِ دفع کو گردش کا سبب بناتی ہے۔ آسان لفظوں میں کہا گیا ہے کہ سیارہ باہر کی طرف جانے کی کوشش کرتا ہے، قوتِ کشش اسے اندر کی طرف کھینچتی ہے، اور دونوں کے ملنے سے اس کا مرکز کے گرد گھومنا سمجھایا جاتا ہے۔
لیکن کتاب نے مرکز سے قوتِ دفع کو سمجھاتے وقت ایک ایسے جسم سے آغاز بھی کیا تھا جو پہلے ہی گھمایا جا رہا ہو۔ وہاں کہا گیا کہ جتنا تیز جسم گھومے، باہر کی طرف جانے کا رجحان اتنا زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اس طرح پڑھیں تو گردش کو قوتِ دفع کی وجہ بنایا جا رہا ہے۔
اب دونوں باتیں ساتھ رکھیں۔ ایک کہتی ہے کہ قوتِ دفع گردش پیدا کرنے میں سبب ہے۔ دوسری کہتی ہے کہ گردش قوتِ دفع پیدا کرتی ہے، یا کم از کم اسے ظاہر کرتی ہے۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا اعتراض یہ ہے کہ وضاحت واپس اپنی ہی بات پر آ گئی۔
ایک سادہ مثال سے بات واضح ہو جاتی ہے۔ کوئی کہے: یہ پہیہ اس لیے گھومتا ہے کہ ایک خاص قوت موجود ہے۔ پھر پوچھا جائے کہ وہ قوت کیوں موجود ہے، تو جواب دے: کیونکہ پہیہ گھومتا ہے۔ اس جواب نے کوئی الگ ابتدائی وجہ نہیں دی، بلکہ پہلی بات ہی کو دوبارہ وجہ بنا دیا۔
اس لیے بیان نمبر 10 کا اصل نشانہ سبب اور نتیجے کی ترتیب ہے۔ اس مختصر بیان میں کوئی نیا حساب پیش نہیں کیا گیا۔ اعتراض یہ ہے کہ قوتِ دفع سے گردش کو سمجھایا جائے اور پھر اسی گردش سے قوتِ دفع کو سمجھایا جائے۔
اس کے بعد اصل متن جدید فلکیات کے بارے میں بہت سخت الفاظ استعمال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی مذمت باب سوم میں آئے گی، ان شاء اللہ۔ یہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے متن میں فیصلہ ہے؛ یہاں ہم صرف ان کی دلیل کو آسان لفظوں میں واضح کر رہے ہیں۔
بیان نمبر 10 کو مختصر طور پر یوں یاد رکھیں: اگر قوتِ دفع کو گردش کی وجہ کہا جائے تو پھر اسی وضاحت میں گردش کو قوتِ دفع کی وجہ بنانے کے لیے کوئی الگ ابتدائی سبب بھی دینا ہوگا۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ یہاں اسی سبب اور نتیجے کے واپس ایک دوسرے پر آنے پر اعتراض کرتے ہیں۔
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ اس بیان میں ایک سادہ سوال پر توجہ دلاتے ہیں: اس وضاحت میں پہلے کیا آتا ہے، قوتِ دفع یا گردش؟
ایک طرف پچھلی وضاحت قوتِ دفع کو گردش کا سبب بناتی ہے۔ آسان لفظوں میں کہا گیا ہے کہ سیارہ باہر کی طرف جانے کی کوشش کرتا ہے، قوتِ کشش اسے اندر کی طرف کھینچتی ہے، اور دونوں کے ملنے سے اس کا مرکز کے گرد گھومنا سمجھایا جاتا ہے۔
لیکن کتاب نے مرکز سے قوتِ دفع کو سمجھاتے وقت ایک ایسے جسم سے آغاز بھی کیا تھا جو پہلے ہی گھمایا جا رہا ہو۔ وہاں کہا گیا کہ جتنا تیز جسم گھومے، باہر کی طرف جانے کا رجحان اتنا زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اس طرح پڑھیں تو گردش کو قوتِ دفع کی وجہ بنایا جا رہا ہے۔
اب دونوں باتیں ساتھ رکھیں۔ ایک کہتی ہے کہ قوتِ دفع گردش پیدا کرنے میں سبب ہے۔ دوسری کہتی ہے کہ گردش قوتِ دفع پیدا کرتی ہے، یا کم از کم اسے ظاہر کرتی ہے۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا اعتراض یہ ہے کہ وضاحت واپس اپنی ہی بات پر آ گئی۔
ایک سادہ مثال سے بات واضح ہو جاتی ہے۔ کوئی کہے: یہ پہیہ اس لیے گھومتا ہے کہ ایک خاص قوت موجود ہے۔ پھر پوچھا جائے کہ وہ قوت کیوں موجود ہے، تو جواب دے: کیونکہ پہیہ گھومتا ہے۔ اس جواب نے کوئی الگ ابتدائی وجہ نہیں دی، بلکہ پہلی بات ہی کو دوبارہ وجہ بنا دیا۔
اس لیے بیان نمبر 10 کا اصل نشانہ سبب اور نتیجے کی ترتیب ہے۔ اس مختصر بیان میں کوئی نیا حساب پیش نہیں کیا گیا۔ اعتراض یہ ہے کہ قوتِ دفع سے گردش کو سمجھایا جائے اور پھر اسی گردش سے قوتِ دفع کو سمجھایا جائے۔
اس کے بعد اصل متن جدید فلکیات کے بارے میں بہت سخت الفاظ استعمال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی مذمت باب سوم میں آئے گی، ان شاء اللہ۔ یہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے متن میں فیصلہ ہے؛ یہاں ہم صرف ان کی دلیل کو آسان لفظوں میں واضح کر رہے ہیں۔
بیان نمبر 10 کو مختصر طور پر یوں یاد رکھیں: اگر قوتِ دفع کو گردش کی وجہ کہا جائے تو پھر اسی وضاحت میں گردش کو قوتِ دفع کی وجہ بنانے کے لیے کوئی الگ ابتدائی سبب بھی دینا ہوگا۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ یہاں اسی سبب اور نتیجے کے واپس ایک دوسرے پر آنے پر اعتراض کرتے ہیں۔
اس مطالعے کے انداز میں ابھی متن دستیاب نہیں۔ دوسرا انداز منتخب کریں یا اصل PDF دیکھیں۔
اصل PDF نسخے
صفحوں کے حوالے اصل نسخے سے متعلق ہیں؛ دوسرے نسخوں کی صفحہ بندی مختلف ہو سکتی ہے۔